علم کی طلب ہر مسلمان (مرد و عورت)پر فرض ہے۔
تشریح:
انسانی فطرت کا بنیادی تقاضا ہے کہ اسے اپنی ذات اور کائنات کے بارے میں ہر اچھی اور بری بات کا علم ہو۔ اس کے بغیر نہ تو انسان دنیا میں ترقی کر سکتا ہے اور نہ ہی اپنے خالق ومالک کا قرب حاصل کرسکتا ہے۔انسان کی اسی بنیادی ضرورت کے پیش نضر حضور اکرم ﷺ نے اس حدیث میں علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر لازمی قرار دیا ہے۔ جبکہ ہمارے ملک میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعلیم کا تناسب نصف ہے۔ لڑکیوں کے مدارس کی تعداد بھی آدھی ہے۔
حضوراکرم ﷺ کے ارشاد گرامی پر عمل کے لیے ضروری ہے کہ ہم لڑکیوں کی تعلیم و تربیت پر بھی پوری توجہ دیں تاکہ کو ئی بچی اَن پڑھ اور جاہل نہ رہے۔
انسان اس وقت تک اپنے مقام اور اللہ کی طرف سے عا ئد کردہ فرائض کو جان نہیں سکتا جب تک وہ علم کی جستجوکی راہ پر گامزن نہ ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی عدالت میں اپنے فرائض و ذمہ داریوں کے متعلق جواب دہی کرنی ہےاس لیے ہر نیکی اور گناہ کا ،اچھائی اور برائی کا علم حاصل کرنا بھی فرض ہے تب ہی ہم دنیا میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی عدالت میں بھی سرخرو ہو سکتے ہیں۔
1 Comments
beautiful hadees
ReplyDeletePlease do not type the wrong comment.